Responsive Ad Slot

test banner

Latest

epicks

کیا کشمیر میں ’مزاحمتی آرٹ‘ کو سنسر کیا جا رہا ہے؟

کیا کشمیر میں ’مزاحمتی آرٹ‘ کو سنسر کیا جا رہا ہے؟

سہیل نقشبندی کے کارٹون: کیا کشمیر میں ’مزاحمتی آرٹ‘ کو سنسر کیا جا رہا ہے??؟

سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionکشمیریوں کے ساتھ دو طرح کا سلوک ہوتا ہے۔۔ یا تو اجتماعی قید یا اجتماعی قتل


انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے کارٹونِسٹ سہیل نقشبندی انگریزی زبان کے کشمیری روزنامے ’گریٹر کشمیر‘ کے ساتھ کئی برسوں سے منسلک تھے۔

انھوں نے حال ہی میں اخبار سے یہ کہہ کر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا کہ اخبار پر اور ان پر کچھ موضوعات کو کور نہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا ہی جا رہا تھا، خاص طور پر فروری میں ہونے والے پلوامہ حلمے کے بعد۔

سوشل میڈیا پر استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’اب تک ان کا اخبار اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آنے والے دباؤ سے انہیں بچاتا رہا لیکن فروری میں ہونے والے پلوامہ حملے کے بعد حالات کافی مشکل ہو گئے ہیں۔‘

ان کے مطابق وزارت اطلاعات نے پلوامہ حملے کے بعد جموں کشمیر انتظامیہ سے ’رزِزٹنس آرٹ‘ یا مزاحمتی آرٹ کی نشاندہی کرنے کو کہا ہے۔
یہ سہیل نقشبندی کے کچھ ایسے کارٹون ہیں جو ان کے بقول سنسرشپ کی وجہ سے نہیں چھاپے گئے۔(تحریر اور تصاویر سہیل نقشبندی)۔
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionیہ اس دن کے بارے میں ہے جب انڈین فوج کشمیر میں داخل ہوئی، اور کیسے موجودہ سیاسی صورت حال کی وجہ بنی
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionپچھلے سال سرینگر کے مرکز میں ہونے والے ایک کریک ڈاؤن میں ایک نوجوان لڑکا مارا گیا۔ اس کے خاندان والوں کے مطابق ان کے بچے کو فوج نے قتل کیا۔ اور بعد میں جب اس کے گھر والے اس کی میت کو دفنانے کے لیے لے جا رہے تھے تو ان پر آنسو گیس کے گولے برسائے گئے۔ تب ایک ہمسائے نے اپنی قمیض پھاڑی اور پولیس سے روتے ہوئے، باہیں پھیلائے، اسے گولی مارنے کو کہا۔ میں نے یہ تصویر دیکھی اور میرے ذہن میں یہ تصویر آئی
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionکشمیر دنیا کی ان جگہوں میں سر فہرست ہے جہاں انٹرنیٹ آئے دن بلاک کیا جاتا ہے۔ اتنا کہ اب یہ غیر معمولی نہیں لگتا
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionتین طلاق بِل اور مسلمان خواتین کے لیے بی جے پی کی ہمدردی
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionہاتھی اور چیونٹی کی لڑائی
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionکٹھوعہ میں ایک 8 سال کی بچی کے ریپ اور قتل کے بعد بی جے پی اور اس کے دائیں بازو کے اتحادیوں نے، جن میں کچھ وزیر بھی شامل تھے، ملزموں کی حمایت کی۔ وزرا کو نکال دیا گیا تو انھیں بحال کرنے کے لیے مہم چلائی گئی
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionلال قلعے سے کی گئی ایک تقریر میں وزیر اعظم مودی نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کی۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionگورنر ستیا پال ملک کی تعیناتی پر انھوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کوئی سنیما ہال یا کافی شاپ نہیں۔ یہ انھوں نے اسی دن کہا جب ایک نوجوان کشمیری لڑکے کو سرینگر میں ہلاک کیا گیا تھا اور اس کے جنازے پر آنسو گیس کے گولے برسائے گئے تھے
سہیل نقشبندیتصویر کے کاپی رائٹSUHAIL NAQSHBANDI
Image captionپلوامہ کے بعد جس طرح انڈین نیوز چینلز نے کشمیر مخالف جذبات کو ہوا دی
تحریر و تصاویر: سہیل نقشبندی
Courtesy : BBC Urdu

No comments

Post a Comment

Comment with in Society Respect....

Thanks

Don't Miss
© all rights reserved
made with by Sajid Sarwar Sajid