Responsive Ad Slot

test banner

Latest

epicks

DailyLife

dailylife

Pakistan

nature

World

world

Love

love

Viral

viral

Videos Collections

videos

Articles Collection

articles

میگاپکسلز کسی کیمرے کی تصاویر کی کوالٹی میں اہم کردار ادا نہیں کرتے: ماہرین

No comments


نوکیا نے 2013 میں لومیا 1020 لانچ کیا تھا جس میں 41 میگاپکسل کیمرا متعارف کروایا گیا۔ مگر کیا واقعی یہ عدد اتنا ضروری ہے؟

جب بھی ایپل، سام سنگ یا کوئی اور برینڈ نیا موبائل فون متعارف کرواتی ہے تو صارفین سکرین، بیٹری اور خاص طور پر کیمرے کے بارے میں ہی پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔


آئی فون کے تازہ ترین ماڈل آئی فون 11 میں 12 میگاپکسل کا کیمرہ دیا گیا ہے اور سام سنگ گیلیکسی نوٹ 10 میں 16 میگاپکسل کا کیمرہ ہے۔

ہواوے کے میٹ 30 ورژن میں ٹرپل کیمرا سسٹم ہے جس میں 40 میگاپکسل کا سینسر، ایک 16 میگاپکسل کا الٹرا وائڈ اینگل اور آٹھ میگاپکسل کا ٹیلی فوٹو لینز موجود ہے۔

یہ سب حیران کن ہے نا؟


مگر آپ چاہے میگاپکسلز کے لیے کتنے ہی بے تاب کیوں نہ ہوں، سچ تو یہ ہے کہ یہ خیال کہ زیادہ میگاپکسلز زیادہ بہتر کوالٹی کی تصاویر دیتے ہیں، غلط ہے۔



رات یا پھر کم روشنی والا ماحول ہی کسی کیمرے کا حقیقی امتحان ہوتا ہے

کئی صارفین اس نمبر سے اس لیے متاثر ہوجاتے ہیں کیونکہ بہرحال پانچ میگاپکسل سننے میں آٹھ میگاپکسل جتنا اچھا نہیں لگتا، بھلے ہی کیمرہ بہترین تصاویر لیتا ہو۔


اور یہی منطق استعمال کرتے ہوئے دیکھیں تو 12 میگاپکسل تو آٹھ سے اور بھی زیادہ اچھا ہوگا!


مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اور یہ ہم نہیں بلکہ ماہرین کہتے ہیں۔


امریکی جریدے سائنٹیفک امیریکن کے مطابق موبائل فونز کے کیمروں کو اس طرح جانچنے کے پیچھے موجود راز یہ ہے کہ ’فوٹوگرافک کارکردگی پرکھنے کے لیے صرف میگاپکسلز کی تعداد گننا صحیح طریقہ نہیں۔‘


اسے درست انداز میں سمجھانے کے لیے ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ میگاپکسل کی تعداد کیمرے کی ریزولوشن بتاتی ہے۔


اور ریزولوشن تصویر کے سائز پر تو اثر انداز ہوتی ہے، مگر اس کی کوالٹی پر نہیں۔


اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ ہم تصویر کی کوالٹی کھوئے بغیر کسی تصویر کو کتنا بڑا کر سکتے ہیں۔


 آج کل ڈبل کیمرے بہت مقبول ہیں جن سے تصاویر کا فوکس بہتر کرنے اور گہرائی کا افیکٹ دینے میں مدد ملتی ہے

یعنی اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ اپنی کسی تصویر کو اے فور کے سائز پر پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس موبائل کا انتخاب کرتے ہیں۔


اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اسے کسی بڑے سائز مثلاً اے ٹو پر پرنٹ کروائیں، تو آپ کو میگاپکسلز کی تعداد کی فکر کرنی چاہیے۔


مگر موبائل فونز سے لی گئی زیادہ تر تصاویر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر پوسٹ کی جاتی ہیں، واٹس ایپ پر شیئر کی جاتی ہیں یا پھر کسی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں، جہاں لوڈ ہونے کے لیے انھیں سائز میں چھوٹا ہونا چاہیے۔
’سائز سے فرق پڑتا ہے‘


سپین میں ہائیر کونسل فار سائنٹیفک ریسرچ کے آپٹکس انسٹیٹیوٹ کے محقق سرجیو باربیرو برائیونیس کے نزدیک جس چیز سے فرق پڑتا ہے وہ پکسلز کی تعداد نہیں بلکہ ان کا سائز ہے۔


اور اس کا فیصلہ سینسر کرتا ہے جس کا کام روشنی اکھٹا کرنا ہوتا ہے۔



 روشنی کتنی ہے اور کیمرا اسے کتنی اچھی طرح جمع کر سکتا ہے، اس سے تصویر کے معیار پر فرق پڑتا ہے


ماہر فوٹوگرافرز کا کہنا ہے ’روشنی کے بغیر کوئی فوٹو نہیں ہوسکتی۔‘


باربیرو کہتے ہیں ’پکسل جتنی کم ہو گی اتنا ہی زیادہ بہتر ہو گا۔‘


اور اگر آپ کی کسی بھی تصویر کی حتمی شکل کا فیصلہ فزکس کے قوانین کے تحت نہ ہونا ہوتا، تو ’ہم لامحدود ریزولوشن حاصل کر سکتے تھے۔‘


مگر یہ اس لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ ہمیں ہمیشہ ’ڈِفریکشن سپاٹ‘ کا سامنا رہے گا جو کہ روشنی کی لہر جیسی نوعیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔


اور یہی چیز ریزولوشن کے لیے تکنیکی حدود پیدا کرتی ہے۔


سائنٹیفک امیریکن کے مطابق ’امیج سینسر کا سائز اہم ہے اور عموماً سینسر جتنا بڑا ہوتا ہےاس کی پکسلز بھی اتنی ہی زیادہ بڑی ہوتی ہیں اور پکسلز کا سائز جتنا زیادہ ہوتا ہے، یہ اتنی ہی روشنی جمع کر سکتی ہیں۔ آپ جتنی زیادہ روشنی جمع کر سکیں، تصویر اتنی ہی اچھی آئے گی.



یہ نائیکون D3200 کیمروں میں استعمال ہونے والا سینسر ہے جس میں 24.2 میگاپکسل تھیں

کیسے معلوم کیا جائے کہ کون سا سینسر بہتر ہے؟


عام طور پر موبائل فون بنانے والی کمپنیاں کیمرہ سینسر کا سائز بتاتی ہیں۔ مگر یہ ایک عام صارف کے لیے سمجھنے میں تھوڑا دشوار ہو سکتا ہے۔


کیا ایک آئی فون 8 کے سینسر کے سائز 1/3 انچ اور سام سنگ گیلیکسی ایس 9 کے سائز 1/2.6 انچ ہونے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟


سینسر کے سائز سے متعلق جو چیز آپ کو جاننی چاہیے وہ یہ کہ اوپر والے ہندسے جس نمبر سے تقسیم کیا جا رہا ہے وہ جتنا چھوٹا ہو گا سینسر کا سائز اتنا ہی زیادہ اور اتنا ہی اچھا ہو گا۔


اس لیے اوپر دیے گئے اعداد و شمار میں سام سنگ کا سینسر ایپل کے سینسر سے تھوڑا سا بہتر ہے۔


اس لیے اگلی مرتبہ جب آپ یہ جاننا چاہیں کہ موبائل فون کا کیمرہ کتنا اچھا ہے تو مارکیٹنگ کے چنگل میں نہ آئیے گا!


Courtesy: BBC Urdu
© all rights reserved
made with by Sajid Sarwar Sajid